اکتوبر 28, 2009

مہربان ہستی

Posted in انتخاب, اشعار بوقت: 11:18 صبح از Bilal

چہرے پہ اپنا دست کرم پھیرتی ہوئی

ماں رو پڑی ہے سر کو مرے چومتی ہوئی
 

اب کتنے دن رہو گے مرے پاس تم یہاں

تھکتی نہیں ہے مجھ سے یہی پوچھتی ہوئی
 

رہتی ہے جاگتی وہ مری نیند کے لئے

بچوں کو مجھ سے دور پرے روکتی ہوئی
 

بے چین ہے وہ کیسے مرے چین کے لئے

آتے ہوئے دنوں کا سفر سوچتی ہوئی
 

کہتی ہے کیسے کٹتی ہے پردیس میں تری

آنکھوں سے اپنے اشک رواں پونجھتی ہوئی
 

ہر بار پوچھتی ہے کہ کس کام پر ہو تم

فخریؔ وہ سخت ہاتھ مرے دیکھتی ہوئی

 

کلام : زاہد فخری

Advertisements

اکتوبر 18, 2009

نازک بدن

Posted in انتخاب, اشعار tagged , بوقت: 9:36 صبح از Bilal

جسے دیکھتے ہی خماری لگے

جسے عمر ساری ہماری لگے

اجالا سا ہے اس کے چاروں طرف

وہ نازک بدن پاؤں بھاری لگے

وہ سسرال سے آئی ہے میکے

اسے جتنا دیکھوں پیاری لگے

وضاحت:۔

باپ کے احساسات اپنی بیٹی کے بارے میں جو پاؤں بھاری ہونے پر سسرال سے میکے آئی ہے اور اس پر ایک نئی چمک دمک ہے۔

[ شاعر کا مدعا سمجھنے کیلئے اب اشعار دوبارہ پڑھیے (; ]

ماخذ : عرب نیوز

(اشعار و نثر)

اکتوبر 14, 2009

اغوا برائے تاوان

Posted in کرائم سیل, خصوصی رپورٹ tagged , , بوقت: 9:28 صبح از Bilal

(خصوصی رپورٹ – کرائم سیل ) تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پنجاب کے بیشتر علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کافی مخدوش ہے۔ مختلف علاقوں میں دھمکیوں اور اغوا برائے تاوان کا سلسلہ جاری ہے ۔ خوش اخلاق و خوش رو اور بر سر روزگار انجینئرز ملزمان کا خاص شکار بن رہے ہیں۔

ملتان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص مسمی علی عباس خواجہ عرف (CR)  کو مورخہ 28 ستمبر 2009 کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ دھمکیوں کا سلسلہ تو کافی عرصہ سے جاری تھا اور حساس اداروں نے علی کو محتاط رہنے کا کہا تھا۔

اسی طرح لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک شخص فہد شکیل عرف شیخ صاحب کو مورخہ 10 اکتوبر 2009 کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ تقریبا ایک سال سے دھمکیوں کا سلسلہ جاری تھا۔

 "ملزمان" کی شرائط کافی سخت ہیں۔ دونوں اشخاص کیلئے تاوان عمر بھر شریک حیات کی خدمت کا مطالبہ ہے۔ تاوان کی ادائیگی کے باوجود رہائی کی بالکل امید نہیں ہے۔

یاد رہے کہ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص مسمی اسد علی عرف سندھو کو ماہ رمضان سے دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ حساس ادارے کےمطابق اسد کو مستقبل قریب میں اغوا کر لیا جائے گا۔

وسیع تر مفاد عامہ کے لیئے  ہوشیار کیا جاتا ہے کہ آج کل حالات کافی زیادہ خراب ہو گئے ہیں۔ ۔مستقبل میں اس طرح کی مزید وارداتوں کا امکان ہے۔  اس لئے اپنی حفاظت کیلئے "حکومت" پر بھروسہ کرنے کی بجائے کوئی عملی کوشش کیجئے۔

اکتوبر 5, 2009

یوم اساتذہ

Posted in Events, Special Days tagged , بوقت: 8:47 شام از Bilal

ایک لمبے وقفے کے بعد پھر حاضر خدمت ہونے کا موقع ملا ہے۔ ویسے تو بہت سے عناوین ذہن میں ہیں لیکن کچھ مصروفیات اور کچھ میری سستی آڑے آئی اور یہ وقفہ طویل ہوتا چلا گیا، بہر کیف۔۔۔۔

آج پاکستان میں یوم اساتذہ منایا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک میں مختلف ایام میں یہ دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد یہ ہے کہ استاد کے مقام و مرتبہ کواجاگر کیا جائے اور اس کو وہ عزت و احترام دیا جائے جس کا وہ حقدار ہے۔ ایک انگریزی مقولہ ہے

A Teacher is a beacon that lights the path of a child

یعنی، استاد وہ مینارہ نور ہے جوبچے کی راہ کو (علم و ہدایت سے ) منور کر دیتا ہے۔

ایک اچھا استاد وہ ہوتا ہے جو بچے کو نہ صرف ایک اچھا طالب علم بنائے بلکہ ایک اچھا انسان بھی بنائے۔

سکندر اعظم کا قول ہے

میرے والد ین نے مجھے زمین پر اتارا  اور میرے استاد نے مجھے آسمان کی بلندی تک پہونچا دیا۔

نوبل انعام یافتہ سائنسداں عبدالسلام نے نوبل انعام کو اپنے استاد کے قدموں میں رکھ کر کہا تھا

کلاس روم میں اگر آپ نے میری ہمت افزائی کے طور پر ایک روپیہ نہ دیا ہوتا تو آج میں نوبل انعام کا حقدار نہ بنتا، میری نظر میں نوبل انعام کی اہمیت آپ کے ایک روپئے سے بھی کم ہے ۔

ویسے تو سکول سے لے کر یونیورسٹی تک بہت سے اساتذہ قابل ذکر ہیں لیکن میں کالج کے ریاضی کہ استاد کا بالخصوص ذکر کروں گا۔ ان کا اسم گرامی ریاض احمد تھا۔ ان کی اپنے مضمون سے لگن اس حد تک تھی کہ طلبا کہا کرتے تھے کہ ریاض نکلا ہی ریاضی سے ہے۔ اپنے مضمون پر کامل عبور تو بہت سے اساتذہ کو ہوتا ہے لیکن ان کا سمجھانے کا انداز ایسا  تھا  کہ مشکل سے مشکل چیز بھی عام فہم مثالوں سے واضح کردیتے تھے۔ آج کئی سالوں بعد بھی اگر گھر میں کسی بچے کو کچھ سمجھانے لگتا ہوں تو ان کی مثالیں  یاد آ جاتی ہیں۔  عمومی کلاسوں کہ علاوہ وہ ویک اینڈ پر بھی بلا معاوضہ  فسٹ ائیر اور سیکنڈ ائیر کی کلاسیں لیتے تھے ۔ حال ہی میں وہ کالج سے فارغ ہوئے ہیں اور فی الحال جدہ میں ہی مقیم ہیں۔

آج کے دن میں اپنے تمام اساتذہ (وہ بھی جو آج اس دنیا میں نہیں ہیں ان) کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ رب العزت ان کو بابرکت طول عمر عطا فرمائے، اور وہ اسی لگن اور جذبے کہ ساتھ علم ودانش کی ترویج کا مشن جاری رکھیں۔ آمین۔