اکتوبر 28, 2009

مہربان ہستی

Posted in انتخاب, اشعار بوقت: 11:18 صبح از Bilal

چہرے پہ اپنا دست کرم پھیرتی ہوئی

ماں رو پڑی ہے سر کو مرے چومتی ہوئی
 

اب کتنے دن رہو گے مرے پاس تم یہاں

تھکتی نہیں ہے مجھ سے یہی پوچھتی ہوئی
 

رہتی ہے جاگتی وہ مری نیند کے لئے

بچوں کو مجھ سے دور پرے روکتی ہوئی
 

بے چین ہے وہ کیسے مرے چین کے لئے

آتے ہوئے دنوں کا سفر سوچتی ہوئی
 

کہتی ہے کیسے کٹتی ہے پردیس میں تری

آنکھوں سے اپنے اشک رواں پونجھتی ہوئی
 

ہر بار پوچھتی ہے کہ کس کام پر ہو تم

فخریؔ وہ سخت ہاتھ مرے دیکھتی ہوئی

 

کلام : زاہد فخری

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: