اکتوبر 6, 2011

Think Different – سوچو ذرا ہٹ کے

Posted in Articles, خصوصی رپورٹ tagged بوقت: 1:02 شام از Bilal


ایپل کمپنی کے سابق چیف آپریٹنگ آفیسر سٹیو جابز گزشتہ شب ابدی نیند سو گئے۔ سنہ 2004 میں انہیں لبلبہ کا کینسرتشخیص ہوا اور اس سال اگست کے آخر میں انہوں نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔ گزشتہ شب 56 سال کی عمر میں وہ دار فانی سے کوچ کر گئے۔

لکھنے والے ان کے بارے میں بہت کچھ لکھ چکے ہیں، لکھ رہے ہیں اور لکھتے رہیں گے۔حتی کہ سٹیو جابز نے اپنی خود نوشت بھی لکھی ہے جو کہ نومبر میں متوقع ہے۔

اس پوسٹ کا مقصد اس سارے مواد کا اردو ترجمہ کرنا نہیں بلکہ کچھ اہم روابط کو آپ کے علم میں لانا ہے۔

اس میں سٹیو کے تکنیکی کاموں کی بجائےذاتی پہلوں کو بیان کیا گیا ہے۔ مثلا کے سٹیو کے حقیقی (جنیاتی) والد ایک شامی مسلمان تھے۔ بل گیٹس کی طرح سٹیو بھی ایک گریجوئیٹ نہیں تھے۔۔۔۔

اس صفحہ پر آپ کو ان کے بارے مین سب کچھ تفصیل سے مل جائے گا (کچھ زیادہ ہی تفصیل سے)۔۔

اس صفحہ پر آپ دنیا کے بیشمار بڑے اور اہم لوگوں کے پیغامات پڑھ سکتے ہیں۔ یہ ان کے دوست، ساتھی، مداح یا معتقدین ہیں۔ مائکروسافٹ کمپنی کے بانی بلگیٹس جو کہ ایک زمانے میں سٹیو کے ساتھی تھے، ان کے پیغام میں سا ایک اقتاباس:۔

سٹیو اور میں تقریبا 30 سال قبل پہلی بار ملے تھے اور ہم اپنی آدھی سے زیادہ زندگی کے دوران ساتھی، حریف اور دوست کے طور پر رہے۔

شاذ و نادر ہی کوئی شخص دنیا پر سٹیو جیسے گہرے اثرات مرتب کرتا ہے ،ایسے اثرات جنہیں بہت سی آنے والی نسلوں بھی محسوس کریں گی۔۔

سٹیو جابز کا بدھ مت کی طرف رجحان، سٹیو کی تلخ ابتدائی زندگی اور اس کے اثرات، وغیرہ وغیرہ

دنیا کی کوئی بھی ہستی کامل نہیں ہے (سوائے اللہ کے منتخب بندوں کے)، اسی طرح سٹیو بھی کوئی 100 ٪ کامل نہیں تھا۔ ہمیں اس کی زندگی سے یہ سیکھنا چاہے کہ حالات کا مقابلہ کرنے کیلیے کن کن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ سٹیو اپنی رسمی تعلیم کی عدم موجودگی کے باوجود ایک اونچے مقام پر پہنچا۔ ایپل کا سی ای او  بنا اور پھر خراب کارکردگی پر نوکری سے برخواست کر دیا گیا، (سٹیو نے ایپل کے علاوہ بھی مختلف کمپنوں کی بنیاد رکھی)، بعد میں دوبارہ ایپل کا سی یس او منتخب ہوا اور اس کو بلندیوں کی معراج پر لے گیا۔۔۔۔

Advertisements

اکتوبر 14, 2009

اغوا برائے تاوان

Posted in کرائم سیل, خصوصی رپورٹ tagged , , بوقت: 9:28 صبح از Bilal

(خصوصی رپورٹ – کرائم سیل ) تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پنجاب کے بیشتر علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کافی مخدوش ہے۔ مختلف علاقوں میں دھمکیوں اور اغوا برائے تاوان کا سلسلہ جاری ہے ۔ خوش اخلاق و خوش رو اور بر سر روزگار انجینئرز ملزمان کا خاص شکار بن رہے ہیں۔

ملتان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص مسمی علی عباس خواجہ عرف (CR)  کو مورخہ 28 ستمبر 2009 کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ دھمکیوں کا سلسلہ تو کافی عرصہ سے جاری تھا اور حساس اداروں نے علی کو محتاط رہنے کا کہا تھا۔

اسی طرح لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک شخص فہد شکیل عرف شیخ صاحب کو مورخہ 10 اکتوبر 2009 کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ تقریبا ایک سال سے دھمکیوں کا سلسلہ جاری تھا۔

 "ملزمان" کی شرائط کافی سخت ہیں۔ دونوں اشخاص کیلئے تاوان عمر بھر شریک حیات کی خدمت کا مطالبہ ہے۔ تاوان کی ادائیگی کے باوجود رہائی کی بالکل امید نہیں ہے۔

یاد رہے کہ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص مسمی اسد علی عرف سندھو کو ماہ رمضان سے دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ حساس ادارے کےمطابق اسد کو مستقبل قریب میں اغوا کر لیا جائے گا۔

وسیع تر مفاد عامہ کے لیئے  ہوشیار کیا جاتا ہے کہ آج کل حالات کافی زیادہ خراب ہو گئے ہیں۔ ۔مستقبل میں اس طرح کی مزید وارداتوں کا امکان ہے۔  اس لئے اپنی حفاظت کیلئے "حکومت" پر بھروسہ کرنے کی بجائے کوئی عملی کوشش کیجئے۔