اکتوبر 8, 2015

سانحہ 8 اکتوبر 2005 – کچھ یادیں

Posted in Uncategorized بوقت: 6:58 شام از Bilal

ایک طویل وقفہ کے بعد پھر حاضر خدمت ہیں۔ ایک دہائی قبل آج کے دن ملک کی تاریخ کا شدید ترین زلزلہ آیا تھا جس نے بہت سے ہنستے بستے اور روشن  گھروں کو بھجا کہ رکھ دیا تھا۔ کچھ گھروں کے صرف چند چراغ بجھے تھے اور بعض مکمل طور پر تاریکی میں ڈوب گئے  تھے۔

میں اس دن کی کچھ روداد بیان کرنا چاہوں گا۔ ہمارے جامعہ کے تیسرے سال گا بس آغاز ہی ہوا تھا اور کلاسز  ابھی باقاعدگی سے شروع نہیں ہوئی تھیں۔ ہفتہ کا دن تھا اور ہم یو ای ٹی کے لیکچر ہالز کی سیڑھیوں میں استاد کا انتظار کر رہے تھے۔ کُل ہم پانچ دوست تھے، تین دوست دیوار کی ایک طرف کھڑے تھے اور باقی ہم دو  داخلی پتلی دیوار پر بیٹھے تھے کہ اچانک دیوار ہلنا شروع ہو گئی۔ میں سمجھا کہ دوست دیوار پر پیر مار رہا ہے جس کی وجہ سے مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے (دوست کے پیر مجھے نظر نہیں آ رہے تھے) ۔ جب ہلنے کی شدت زیادہ ہوئی تو میں نے دوست سے پوچھا کہ یہ تم کر رہے ہو؟؟ اس نے حیران  ہو کر کہا کی میں یہ سمجھ رہا تھا کہ تم کر رہے ہو! اتنے میں ایک دوست جو کھڑا تھا، وہ چلایا کہ زلزلہ آ رہا ہے، عمارت سے باہر بھاگو۔ اس سارے عمل کو بیس سے تیس ثانیے لگے۔ اس دوران باقی کلاسز سے اساتذہ اور طلبہ بھی عمارت خالی کر کے باہر کی جانب نکلنا شروع ہو گئے۔ زلزلہ کے شدت بڑھتی جا رہی تھی، اسی اثنا میں اس دو منزلہ عمارت کی منڈیر سے فالتو اینٹ/پتھر نیچے آ کر اس جگہ کے قریب گرے جہاں ایک منٹ قبل ہم لوگ موجود تھے۔

Advertisements