دسمبر 1, 2009

عید مبارک، حج مبارک

Posted in Events, حج بیت اللہ tagged , , , , , , , بوقت: 8:32 شام از Bilal

تمام قارئین کو دلی عید مبارک اور جن لوگوں کو امسال حج کی سعادت نصیب ہوئی ان کو خصوصی مبارک۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت تمام مسلمانوں کو بیت اللہ کی زیارت سے شرفیاب کرے۔

خوش قسمتی سے مجھے اس سال بھی حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ میری کوشش ہو گی کہ اس بابرکت سفر کی روداد مختصراً بیان کروں۔ ارادہ تو پچھلے سال بھی تھا اور کافی تصاویر بھی اتاری تھیں لیکن اس وقت یہ بلاگ معرض وجود میں نہیں آیا تھا اس وجہ سے ارادہ صرف خواب و خیال کی حد تک ہی محدود رہا۔

مصروفیات کی زیادتی اور وقت کی کمی کی وجہ سے میں اس سفر کو قسطوں میں بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ دعا کریں کہ اس بار میں اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہو جاؤں۔

اگلی نشست تک کیلئے اجازت۔

Advertisements

اکتوبر 5, 2009

یوم اساتذہ

Posted in Events, Special Days tagged , بوقت: 8:47 شام از Bilal

ایک لمبے وقفے کے بعد پھر حاضر خدمت ہونے کا موقع ملا ہے۔ ویسے تو بہت سے عناوین ذہن میں ہیں لیکن کچھ مصروفیات اور کچھ میری سستی آڑے آئی اور یہ وقفہ طویل ہوتا چلا گیا، بہر کیف۔۔۔۔

آج پاکستان میں یوم اساتذہ منایا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک میں مختلف ایام میں یہ دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد یہ ہے کہ استاد کے مقام و مرتبہ کواجاگر کیا جائے اور اس کو وہ عزت و احترام دیا جائے جس کا وہ حقدار ہے۔ ایک انگریزی مقولہ ہے

A Teacher is a beacon that lights the path of a child

یعنی، استاد وہ مینارہ نور ہے جوبچے کی راہ کو (علم و ہدایت سے ) منور کر دیتا ہے۔

ایک اچھا استاد وہ ہوتا ہے جو بچے کو نہ صرف ایک اچھا طالب علم بنائے بلکہ ایک اچھا انسان بھی بنائے۔

سکندر اعظم کا قول ہے

میرے والد ین نے مجھے زمین پر اتارا  اور میرے استاد نے مجھے آسمان کی بلندی تک پہونچا دیا۔

نوبل انعام یافتہ سائنسداں عبدالسلام نے نوبل انعام کو اپنے استاد کے قدموں میں رکھ کر کہا تھا

کلاس روم میں اگر آپ نے میری ہمت افزائی کے طور پر ایک روپیہ نہ دیا ہوتا تو آج میں نوبل انعام کا حقدار نہ بنتا، میری نظر میں نوبل انعام کی اہمیت آپ کے ایک روپئے سے بھی کم ہے ۔

ویسے تو سکول سے لے کر یونیورسٹی تک بہت سے اساتذہ قابل ذکر ہیں لیکن میں کالج کے ریاضی کہ استاد کا بالخصوص ذکر کروں گا۔ ان کا اسم گرامی ریاض احمد تھا۔ ان کی اپنے مضمون سے لگن اس حد تک تھی کہ طلبا کہا کرتے تھے کہ ریاض نکلا ہی ریاضی سے ہے۔ اپنے مضمون پر کامل عبور تو بہت سے اساتذہ کو ہوتا ہے لیکن ان کا سمجھانے کا انداز ایسا  تھا  کہ مشکل سے مشکل چیز بھی عام فہم مثالوں سے واضح کردیتے تھے۔ آج کئی سالوں بعد بھی اگر گھر میں کسی بچے کو کچھ سمجھانے لگتا ہوں تو ان کی مثالیں  یاد آ جاتی ہیں۔  عمومی کلاسوں کہ علاوہ وہ ویک اینڈ پر بھی بلا معاوضہ  فسٹ ائیر اور سیکنڈ ائیر کی کلاسیں لیتے تھے ۔ حال ہی میں وہ کالج سے فارغ ہوئے ہیں اور فی الحال جدہ میں ہی مقیم ہیں۔

آج کے دن میں اپنے تمام اساتذہ (وہ بھی جو آج اس دنیا میں نہیں ہیں ان) کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ رب العزت ان کو بابرکت طول عمر عطا فرمائے، اور وہ اسی لگن اور جذبے کہ ساتھ علم ودانش کی ترویج کا مشن جاری رکھیں۔ آمین۔